کسی کو بتانا نہ کے تم نے بھولا دیا ہمیں

کسی کو بتانا نہ کے تم نے بھولا دیا ہمیں
یم تو لوگوں سے یہی کہتے ہیں کہ تم مصروف بہت ہو

تیرے ساتھ رہنے پہ میرا بس نہیں ‘تجھے بھولنا بھی محال ہے،
میں کہاں گزاروں یہ زندگی میرے سامنے یہ سوال ہے

یاد آتے ہیں وہ بیتے زمانے
جب تم آئے تھے ہم کو منانے

کچھ اس ادا سے توڑے ہیں تعلق اس شخص نے
کہ اک مدت سے ڈھونڈ‌ رہا ہوں قصور اپنا

کچھ خاص‌نہیں بس اتنی سی ہے داستان محبت میری
ہر رات کا آخری خیال ؛ہر صبح کہ پہلی سوچ ہو تم

تم یاد نہیں کرتے تو ہم گلہ کیوں کریں
خاموشی بھی تو اک ادا ہے محبت نبھانے کی

مجھے آجکل تیری محبت تھوڑی کم کم لگتی ہے
بھلا دیا ہے مجھے یا مل گیا ہے کوئی اور تجھے