قرب جز داغِ جدائی نہیں دیتا کچھ بھی(احمد فراز)

قرب جز داغِ جدائی نہیں دیتا کچھ بھی
قرب جز داغِ جدائی نہیں دیتا کچھ بھی
تُو نہیں ہے تو دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی
دل کے زخموں کو نہ رو، دوست کا احسان سمجھ
ورنہ وہ دستِ حنائی نہیں دیتا کچھ بھی
کیا اسی زہر کو تریاق سمجھ کر پی لیں
ناصحوں کو تو سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی
ایسا گم ہوں تری یادوں کے بیابانوں میں
دل نہ دھڑکے تو سنائی نہیں دیتا کچھ بھی
سوچتا ہوں تو ہر اک نقش میں دنیا آباد
دیکھتا ہوں تو دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی
یوسفِ شعر کو کس مصر میں لائے ہو فراز
ذوقِ آشفتہ نوائی نہیں دیتا کچھ بھی